احمد آباد ، 22 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اکثر جھگڑے میں ’میں تجھے دیکھ لوں گا‘ کہہ دیا جاتا ہے لیکن اب ایسا کہنے کے بعد ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ گجرات ہائی کورٹ نے اس سزا کو مجرمانہ دھمکی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔گجرات ہائی کورٹ نے ایک وکیل کے خلاف درج ایف آئی آر کو غلط قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔سابرکانٹھا ضلع کے وکیل محمد محسن چھالوتیا نے 2017 میں پولیس اہلکاروں کو ’دیکھ لینے‘ اور ہائی کورٹ میں گھسیٹ لینے کی دھمکی دی تھی،اس کے بعد سے وکیل جیل میں ہی بند ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اس کیس میں وکیل نے ہی پولیس کی ایف آئی آر کے خلاف کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اے ایس سیہیا نے کہاکہ کسی کو دیکھ لوں گا کہنا دھمکی نہیں ہے،دھمکی وہ ہوتی ہے، جس کا شکار کے دماغ میں کسی طرح کا خوف پیدا ہو،اس کیس میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آ رہی ہے،اسے افسر کو دی گئی مجرمانہ دھمکی نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ایف آئی آر منسوخ کر دی۔اس معاملے میں وکیل محسن 2017 میں جیل میں بند اپنے موکل سے ملنے گئے ہوئے تھے۔پولیس نے وکیل کو قیدی سے ملنے سے روک دیا، جس پر دونوں طرف سے شدید بحث ہو گئی،غصے میں آئے وکیل نے پولیس اہلکاروں کو دیکھ لینے اور کورٹ میں گھسیٹنے کی دھمکی دے ڈالی۔اس کے بعد پولیس نے وکیل کے خلاف سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور آفیسر کو اپنی ڈیوٹی سے روکنے کا معاملہ درج کر لیا۔